Noshi Gilani
-
اردو نظم

بے نام اُلجھن
نوشی گیلانی کی ایک اردو نظم
-
اردو غزلیات

اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
-
اردو نظم

یہ گئے دنوں کا ملال ہے
نوشی گیلانی کی ایک اردو نظم
-
اردو غزلیات

بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
-
اردو نظم

کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
نوشی گیلانی کی ایک اردو نظم
-
اردو غزلیات

ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

اب یہ بات مانی ہے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

پُوچھ لو پھُول سے کیا کرتی ہے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

تُمھیں خبر ھی نہیں کیسے سر بچایا ھے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

یہ نام ممکن نہیں رہے گا
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
ایک غزل از نوشی گیلانی
-
اردو غزلیات

یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
ایک غزل از نوشی گیلانی


